جیب تراش بھی عجیب مخلوق ہے۔ آپ اسے دیکھ کر کبھی نہیں کہیں گے کہ یہ صاحب ابھی کچھ دیر بعد کسی کی جیب کو قومی خزانہ سمجھ کر اس میں اصلاحات نافذ کرنے والے ہیں۔ شکل سے شریف، لباس سے مہذب، گفتگو سے نرم اور چال ڈھال سے ایسے جیسے ابھی کسی ادبی مجلس سے اٹھ کر آ رہے ہوں۔ یہی اس پیشے کی پہلی خوبی ہے کہ آدمی وہ نظر نہ آئے جو وہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں ہم نے چہرے کو کردار کا سرٹیفکیٹ بنا رکھا ہے۔ جو خوش لباس ہو، صاف ستھرا ہو، نرم لہجے میں بات کرے، اسے فوراً شریفوں کی فہرست میں داخل کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ شرافت اگر کپڑوں سے ثابت ہوتی تو درزی سب سے بڑے صوفی ہوتے۔

پیشہ ور جیب تراش اسی انسانی کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ ہجوم میں یوں گھلتا ہے جیسے چینی چائے میں۔ آپ کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کب آیا، کہاں کھڑا ہوا اور کب چلا گیا۔ بعد میں یاد کرنے بیٹھیں تو بس اتنا یاد رہتا ہے کہ کچھ لوگ تھے۔ یہی اس کی کامیابی ہے کہ وہ “کوئی شخص” نہیں رہتا، “ہجوم” بن جاتا ہے۔

جیب تراشی کا کاروبار بھی اب پرانے زمانے والا انفرادی مشغلہ نہیں رہا۔ بعض جگہوں پر یہ بھی باقاعدہ ٹیم ورک بن چکا ہے۔ ایک آدمی ماحول بناتا ہے، دوسرا قریب رہتا ہے، تیسرا مال سنبھالتا ہے۔ گویا جرم نہیں، کوئی دفتر چل رہا ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں حاضری رجسٹر نہیں ہوتا اور تنخواہ جیب سے براہ راست وصول کی جاتی ہے۔

کام کی تقسیم دیکھ کر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ہمارے بہت سے جائز اداروں میں بھی اتنی واضح ذمہ داریاں نہیں ہوتیں جتنی ناجائز کام کرنے والوں میں۔ وہاں ہر آدمی جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے دفتروں میں فائل پانچ میزوں سے گھوم کر آخر میں یہ ثابت کرتی ہے کہ کسی کی ذمہ داری ہی نہیں تھی۔

جیب تراش اور چھینا جھپٹی کرنے والے میں بھی فرق ہے۔ ایک کھلے میدان کا کھلاڑی ہے، دوسرا خاموش حکمت عملی کا۔ چھینا جھپٹی والا کم از کم آپ کو یہ اعزاز تو دیتا ہے کہ آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ جیب تراش تو شرافت سے آپ کے قریب آتا ہے، اپنا کام کرتا ہے اور آپ کو اپنی بے خبری کے ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ بعد میں آپ خود اپنے خلاف گواہی دیتے پھرتے ہیں کہ “مجھے تو پتا ہی نہیں چلا۔”

یہ “پتا نہ چلنا” بھی ہمارے معاشرے کی بڑی روایت ہے۔ بہت سی چیزیں ہو جاتی ہیں اور عوام کو بعد میں معلوم ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جیب تراش ایک بٹوا لے جاتا ہے، بعض دوسرے لوگ پورا بجٹ لے جائیں تو بھی خبر پریس کانفرنس کے بعد ہوتی ہے۔

پیشہ ور جیب تراش طاقت سے زیادہ ماحول پر بھروسا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ہجوم میں آدمی کی اپنی شخصیت آدھی رہ جاتی ہے۔ کندھے ٹکراتے ہیں، لوگ قریب آتے ہیں، آوازیں گڈمڈ ہوتی ہیں اور ہر شخص اپنے کام میں مصروف رہتا ہے۔ ایسی جگہ میں اجنبی کی قربت بھی معمول لگتی ہے۔ یہی معمول جرم کے لیے پردہ بن جاتا ہے۔

یہ بھی غور طلب بات ہے کہ جیب تراشی صرف ایک شخص کا کام نہیں رہتی۔ چوری شدہ چیز آخر کہیں تو جاتی ہے۔ اسے کوئی خریدتا ہے، کوئی آگے بیچتا ہے، کوئی اصل قیمت سے کم میں سودا کرتا ہے۔ یوں ایک چھوٹی سی واردات کے پیچھے ایک پورا غیر قانونی بازار کھڑا ہو سکتا ہے۔ جرم بھی معیشت بناتا ہے، بس اس کی رسید نہیں ہوتی۔

چوری شدہ مال خریدنے والا بھی بڑا دلچسپ کردار ہے۔ وہ خود جیب نہیں کاٹتا، اس لیے شاید ضمیر کو سمجھاتا ہوگا کہ “میں نے کیا کیا ہے، میں تو خریدار ہوں۔” ہمارے معاشرے میں یہ دلیل بہت مقبول ہے۔ ناجائز چیز اگر اپنے ہاتھ سے نہ کی جائے تو بعض لوگ سمجھتے ہیں گناہ بھی ہول سیل میں کم ہو جاتا ہے۔

اصل میں جرم کبھی اکیلا نہیں چلتا۔ اسے راستہ، خریدار، سہولت، خاموشی اور کبھی کبھی معاشرتی بے حسی بھی چاہیے۔ اگر کوئی چیز چوری ہونے کے بعد آسانی سے بک سکتی ہو تو چور کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ جہاں ناجائز مال کے خریدار نہ ہوں، وہاں بہت سے چوروں کی مارکیٹ خود بخود مندی کا شکار ہو جائے۔

پیشہ ور جیب تراش کی زندگی باہر سے بڑی آزاد معلوم ہو سکتی ہے۔ نہ دفتر، نہ باس، نہ مقررہ اوقات۔ جب چاہا کام کیا، جب چاہا آرام۔ مگر یہ آزادی بھی عجیب ہے۔ ایک طرف پولیس کا خوف، دوسری طرف کمائی کی فکر، تیسری طرف ساتھیوں پر عدم اعتماد۔ ایسا آزاد آدمی شاید قیدی سے زیادہ محتاط رہتا ہے۔

اسے ہر وقت یہ خیال رہتا ہے کہ کون دیکھ رہا ہے، کون پہچان سکتا ہے، کہاں خطرہ ہے، کہاں موقع۔ عام آدمی بازار میں خریداری کے لیے جاتا ہے، جیب تراش پورا ماحول پڑھنے جاتا ہے۔ ہم قیمتوں کے بورڈ دیکھتے ہیں، وہ لوگوں کی بے خبری۔

چھوٹے شہروں میں اس کا کاروبار مشکل ہوتا ہے۔ وہاں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ایک اجنبی دو دن بازار میں گھوم لے تو تیسرے دن دکاندار پوچھ لیتا ہے، “بھائی صاحب، آپ کس کے مہمان ہیں؟” بڑے شہر اس کے لیے بہتر ہیں، کیونکہ وہاں آدمی لاکھوں لوگوں کے درمیان گمنام رہ سکتا ہے۔ شہری زندگی کی سب سے بڑی سہولت بھی یہی ہے اور کمزوری بھی کہ کوئی کسی کو نہیں جانتا۔

گمنامی بڑی نعمت ہے، مگر جرم کے ہاتھ لگ جائے تو نقاب بن جاتی ہے۔

بڑے بازار، سیاحتی مقامات، بس اڈے، ریلوے اسٹیشن، میلے اور رش والی جگہیں جیب تراش کے لیے اس لیے موزوں ہوتی ہیں کہ وہاں ہر شخص جلدی میں ہے۔ آدمی جب جلدی میں ہو تو اس کی آدھی عقل پہلے ہی منزل پر پہنچ چکی ہوتی ہے، جسم ابھی راستے میں ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جیب تراش کو صرف “تیز ہاتھ والا” سمجھنا مناسب نہیں۔ ہاتھ تو آخر میں آتا ہے۔ پہلے نظر کام کرتی ہے، پھر ذہن، پھر حالات کا اندازہ۔ وہ انسان کی غفلت پڑھتا ہے، ہجوم کو پردہ بناتا ہے اور گمنامی کو حفاظت۔

اس کا اصل ہنر شاید انگلیوں سے زیادہ نفسیات میں ہے۔

اور یہی بات ہمارے لیے سب سے زیادہ قابلِ غور ہے۔

ہم اکثر مجرم کو اس کے جرم سے پہچاننا چاہتے ہیں، حالاں کہ جرم ہونے سے پہلے وہ عام آدمی ہی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احتیاط کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص پر شک کیا جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شرافت کا فیصلہ چہرے سے نہ کیا جائے اور اپنی بے خبری کو کسی دوسرے کی دیانت کے حوالے نہ کیا جائے۔

جیب تراش کی دنیا ہمیں ایک اور تلخ حقیقت بھی دکھاتی ہے۔ انسان اگر غلط کام کو مسلسل پیشہ بنا لے تو وہ اپنے لیے زبان بھی بنا لیتا ہے، اصول بھی اور جواز بھی۔ پھر جرم اسے جرم نہیں لگتا، صرف کام لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی ہاتھ سے پہلے ضمیر کھوتا ہے۔

ورنہ کسی دوسرے کی جیب سے مال نکالنا کوئی بہت پیچیدہ فلسفہ نہیں۔ پیچیدہ سوال یہ ہے کہ انسان خود کو یہ کیسے سمجھا لیتا ہے کہ دوسرے کی محنت اس کی روزی بن سکتی ہے۔

شاید ہر جرم کے پیچھے یہی ایک بڑا دھوکا ہوتا ہے۔

پہلے آدمی دوسرے کو دھوکا دیتا ہے، پھر خود کو۔

جیب تراش کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی کی جیب صاف کر دے۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ خود کو قائل کر لے کہ وہ صرف اپنا “کام” کر رہا ہے۔

اور معاشرہ جب اس فرق کو بھول جائے کہ ہنر اور دیانت ایک ہی چیز نہیں، تو پھر صرف جیبیں نہیں کٹتیں، قدریں بھی کٹنے لگتی ہیں۔